پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دوسرا ٹیسٹ کل سے شروع ہوگاپاکستان(آئن لائن خبرپاکستان) ڈومیسٹک کرکٹ میں جو گیندیں استعمال ہو رہی ہیں وہ بیس اوورز بعد اس کی تیزی ختم ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے گرین پچ پر بھی فاسٹ باؤلرز کو باؤلنگ کرنے میں مشکلات ہو رہی ہیں ہو سکتا ہے شاید اب وہ باؤلرز ہی نا رہے ہوں ، سینچریز کی تعداد زیادہ ہو رہی ہے جیسے کہ کوکابورا Kookaburra سے میچز ہو رہے ہوں ۔ سابق کپتان راشد لطیف نے اپنے شوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ بال کی تحقیق کروانی چائیے اس لئے ابھی تک صرف تین راؤنڈز کے میچز کے بعد 32 سینچریز اور 88 ففٹیز بن چکی ہیں ۔
تصاویر میں آپ انگلینڈ کی ڈیوک گیند اور پاکستانی ڈیوک گیند کے رنگ کے فرق کو دیکھ سکتے ہیں۔ بتانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ گیندیں خراب ہیں ، کرکٹ بورڈ سے گزارش ہے کہ کرکٹ سافٹ وئیر سے گیند کی سوئینگ ، سیم اور بریک کی ٹریکنیگ کا ڈیٹا محفوظ کریں ۔





