لاہور (خبر پاکستان فیچر رپورٹ) آج کل ملک کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر خواتین اور نوجوان لڑکیاں رنگ برنگی سکوٹیاں اور بائیکس چلاتی نظر آتی ہیں۔کوئی اپنی یونیورسٹی یا کالج جا رہی ہوتی ہے، کوئی اپنی والدہ کو اسپتال لے جا رہی ہے، کوئی دفتر، اور کوئی روزمرہ خریداری کے لیے۔یہ منظر ایک مثبت اور جدید معاشرے کی عکاسی کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک سنجیدہ سماجی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

شہریوں، خصوصاً مرد ڈرائیور حضرات سے اپیل ہے کہ وہ سڑکوں پر خواتین ڈرائیورز کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں۔ان کو راستہ دیں، انہیں خوفزدہ نہ کریں، تیز اوور ٹیک یا بلاوجہ ہارن بجانے سے گریز کریں اور اُنہیں وہی تحفظ اور اعتماد دیں جس کے وہ بطور شہری مستحق ہیں۔

یہ خواتین اور لڑکیاں نہ صرف خود مختار اور بااعتماد شہری ہیں بلکہ ہمارے گھروں، معاشرے اور ملک کا وقار ہیں۔انہیں سڑک پر محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنا ہم سب کی اخلاقی، سماجی اور دینی ذمہ داری ہے۔

ان کے ساتھ عزت سے پیش آئیں،        ان کو تحفظ کا احساس دلائیں،     یہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں       ہماری عزتیں، ہمارے گھروں کی رحمتیں ہیں۔

ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت ٹریفک اور عوامی زندگی میں ترقی یافتہ معاشروں کی علامت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بطور قوم ہم سڑکوں پر تہذیب، برداشت، اور احترام کو فروغ دیں تاکہ معاشرہ مزید محفوظ اور متوازن بن سکے۔

اوپر تک سکرول کریں۔