میکسیکو سٹی: میکسیکو کے دارالحکومت میں حکومت مخالف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے دوران پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں کم از کم 120 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں 100 کے قریب پولیس اہلکار شامل ہیں، حکام کے مطابق اکثر زخمی پتھراؤ اور جسمانی جھگڑوں کے باعث ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور صدر کلاڈیا شین بام کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم، کارٹیل تشدد اور حکومتی ناکامیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔کچھ مقامات پر صورتحال کشیدہ ہوگئی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں جبکہ مظاہرین نے بھی جوابی کارروائی کی، جس سے جھڑپیں کئی گھنٹے جاری رہیں۔
صدر کلاڈیا شین بام نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کی مالی معاونت دیگر سیاسی جماعتوں نے کی ہے جو حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔یہ ملک گیر احتجاج جنریشن زیڈ نوجوان گروپس کی جانب سے منظم کیا گیا تھا، جسے شہری حقوق تنظیموں اور مختلف احتجاجی گروپوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔
مظاہرین نے حالیہ ہائی پروفائل قتل خصوصاً یوروپن کے میئر کارلوس منزو کے قتل پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ میئر منزو منشیاتی کارٹیلز کے خلاف سخت کارروائی کے حامی تھے اور ان کے قتل نے عوامی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، تاہم احتجاجی رہنماؤں نے ملک بھر میں مزید مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔





