برطانیہ کےوزیراعظم کی جانب سے فلسطینی ریاست کو آج تسلیم کرنے کا اعلان متوقع
برطانیہ: لندن برطانیہ کے وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر آج دوپہرکو برطانیہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔
برطانیہ کے اس فیصلے کو اسرائیلی حکومت کا ، یرغمالیوں کے خاندانوں اور بعض قدامت پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
برطانوی کے وزیراعظم سٹارمر نے چند ماہ پہلے کہا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی اور ریاستی حل فراہم کرنے والے طویل اور پائیدار امن معاہدے کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کرتا تو برطانیہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔
یہ برطانوی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف پیش رفت کرتا ہے، اس سے پہلےبرطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ فلسطینی کی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ امن عمل کے ذریعے اس وقت ہونا چاہئے جب اس کا زیادہ سے زیادہ اثر ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کو دہشت گردی کوطول دینے کے مترادف ہے تاہم برطانوی وزرا کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کی امید زندہ رکھنے کے لیے کوششیں کرتے رہنا ان کے لیے انسانی حقوق کی ذمہ داری ہے۔
ان کے ساتھ ساتھ پرتگال، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ بھی اس سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، جبکہ اس کے برعکس سپین، آئرلینڈ اور ناروے نے گذشتہ سال یہ قدم اٹھا چکے ہیں۔