اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر ملک کے سب سے جدید ’’ویدر آن دی وے‘‘ الرٹ سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ سسٹم مسافروں کو حقیقی وقت میں درست موسمی معلومات فراہم کرے گا تاکہ سفر زیادہ محفوظ اور باخبر انداز میں کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ویدر والیز اور ون نیٹ ورک کے درمیان ہونے والی یہ ٹیکنالوجیکل شراکت پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہوگی جو ایک بڑے سفری راستے پر ہائپر لوکل موسمی اطلاعات مہیا کرے گی۔ نئے نظام میں 14 خودکار موسمی اسٹیشنز، 5 ایئر کوالٹی سینسرز، 4 وژیبلٹی یونٹس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور اپ ڈیٹڈ موسم کی پیشگوئیاں شامل ہوں گی۔

یہ تمام ڈیٹا ایک ڈسیژن سپورٹ انجن کے ذریعے پروسیس ہوگا جو دھند، بارش، تیز ہوا اور حدِ نگاہ میں کمی جیسے فوری بدلتے موسمی حالات پر مسلسل نظر رکھے گا۔ سسٹم کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات اسمارٹ فون ایپس، ویب پلیٹ فارمز اور موٹروے کے مختلف ٹول پلازوں پر نصب ایس ایم ڈی اسکرینز کے ذریعے مسافروں تک پہنچائی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں موبائل فون کیمرہ اب سیف سٹی اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹم کا حصہ ہوگا

 

اس نظام کے عملی ہونے کے بعد موٹروے پولیس، سرکاری ادارے اور ڈرائیورز پہلی بار یکساں حقیقی وقت کا ڈیٹا استعمال کر سکیں گے، جس سے راستہ پلاننگ، ممکنہ خطرات سے آگاہی اور ہنگامی صورتحال میں بہتر فیصلے ممکن ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی سطح کی بہترین روڈ سیفٹی پریکٹسز سے ہم آہنگ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موسمیاتی اور سینسر نیٹ ورک کی یہ تنصیب صرف موٹروے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات زراعت، لاجسٹکس، سیاحت، توانائی ماڈلنگ اور ماحولیاتی نگرانی جیسے شعبوں تک بھی پھیلیں گے۔ جدید ڈیٹا کسانوں کو بوائی اور آبپاشی کی بہتر منصوبہ بندی، دھند سے متاثرہ علاقوں کے تشخیص، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اور صحت و ماحول سے متعلق حساس معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا۔

اوپر تک سکرول کریں۔