خوشاب (مرتضی ملک) اسلام آباد حکومت نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو آئندہ پانچ سال کی مدت کے لیے پاکستان کا نیا چیف آف ڈیفنس فورس مقرر کرنے کا باضابطہ فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
پی پی-81 کے کوآرڈینیٹر ملک امیر حیدر سنگھا اعوان سمیت مختلف ذمہ داران نے ان کی تعیناتی پر قوم اور فورس کی جانب سے بھرپور مبارکباد کا اظہار کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف فوجی قیادت میں تبدیلی بلکہ قومی حفاظت اور دفاعی استحکام کیلئے اہم سنگِ میل بھی شمار کیا جا رہا ہے۔
پی پی 81 کے کوآرڈینیٹر ملک امیر حیدر سنگھا اعوان نے مزید کہا کہ قوم اس وقت مضبوط فوجی قیادت کی متقاضی تھی، اور آج پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں قومی سلامتی کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو منظم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے دفاع، ادارہ جاتی استحکام اور خطے میں بہتر توازن کے لیے انتہائی مثبت ہے۔
ملک بھر میں نئی فوجی قیادت کے اعلان کے بعد فضا میں اطمینان کی ایک واضح کیفیت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو آئندہ پانچ برسوں کے لیے چیف آف ڈیفنس فورس تعینات کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ان کی تقرری کو ملکی استحکام، دفاعی مضبوطی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دفاعی حلقوں میں اس فیصلے کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے کیونکہ جنرل عاصم منیر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، شفاف سوچ اور قومی سلامتی کے معاملات میں سخت گیر مؤقف رکھنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق ان کی قیادت میں پاکستان کی دفاعی پالیسیاں زیادہ مربوط، جدید تقاضوں کے مطابق اور خطے کی نئی صورتحال کے لحاظ سے بہتر سمت میں آگے بڑھیں گی۔
ملک کے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی اس تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا اور اندرونی و بیرونی سازشوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے گا۔ قومی سطح پر بحالی اعتماد، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، بارڈر مینجمنٹ اور عالمی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بنانے میں ان کی قیادت اہم کردار ادا کرے گی۔
عوامی حلقوں میں بھی یہ تاثر موجود ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ ہو چکا ہے اور یہ تعیناتی ملک کی اجتماعی سوچ کی ترجمانی کرتی ہے۔ ایک مضبوط، تجربہ کار اور بااعتماد فوجی قیادت کا انتخاب ریاستی اداروں کے استحکام کی ضمانت سمجھا جا رہا ہے۔





