اصل خود اعتمادی کیا ہے؟ شور نہیں، سچائی

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ خود اعتمادی کا تعلق اونچی آواز، دکھاوے یا الفاظ کی تکرار سے ہے۔ کسی کو لگتا ہے کہ زیادہ بول کر وہ مضبوط نظر آئے گا، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اپنی تعریفیں کر کے وہ خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کر دے گا۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اصل اعتماد خاموش ہوتا ہےاوریہ اندر سے پیدا ہوتا ہےباہر سے نہیں۔ خود اعتمادی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے آپ سے مخلص و ایماندار ہوتا ہے۔ جب وہ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ان کا سامنا کرتا ہےتو وہ دکھاوے کی بجائے حقیقت کو قبول کرتا ہے۔ انسان کی اصل طاقت تب سامنے آتی ہے جب وہ اپنے اندر چھپی کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے انہیں بہتر بنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

خود اعتمادی کی بنیاد

ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو بولنے میں مشکل ہوتی ہے، کچھ فیصلہ سازی میں کمزور ہوتے ہیں، کچھ لوگوں میں حد سے زیادہ حساسیت ہوتی ہے، کچھ میں ڈر چھپا ہوتا ہے۔لیکن کمزوریاں مسئلہ نہیں ہوتیں، مسئلہ انکار ہے۔ جب انسان حقیقت سے بھاگتا ہے، وہ اپنے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اور جب وہ انہیں قبول کر لیتا ہے، وہ بدلنا شروع کر دیتا ہے۔

خود سے سچ بولنا

خود سے سچ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ مانیں کہ آپ غلط بھی ہو سکتے ہیں،آپ تسلیم کریں کہ آپ کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے،آپ اپنی کمزوریوں کو دیکھیں اور انہیں بہتر کرنے کی کوشش کریں،آپ اپنی زندگی کے فیصلوں کا ذمہ لیں،ایسا کرنے والا انسان کبھی ٹوٹتا نہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔

شور مچانے والا اعتماد کیوں دیر پا نہیں ہوتا؟

بعض لوگ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے شور مچاتے ہیں، وہ زیادہ بولتے ہیں، دوسروں پر تنقید کرتے ہیں اور اپنے کام سے زیادہ اپنی تعریف کرتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد نہیں، یہ  insecurity  ہوتی ہے۔ ایسا دکھاوا چند دن کام کرتا ہے، مگر پھر انسان اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے۔ کیونکہ جھوٹ پر اعتماد کھڑا نہیں ہوتا۔اصل اعتماد خاموش ہوتا ہے، پختہ ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ بڑھتا ہے۔

جب انسان اپنی کمزوری قبول کرتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب زندگی بدلنے لگتی ہے۔ جیسے ہی انسان اعتراف کرتا ہے کہ مجھے بولنے میں مسئلہ ہے،مجھے غصہ جلد آ جاتا ہے،میں فیصلے کرنے میں اچھا نہیں ہوں،میں ڈر جاتا ہوں،مجھے کسی اسکل میں کمزوری ہے،تو یہی تسلیم کرنا اس کی کامیابی کا پہلا قدم بن جاتا ہے۔ جب انسان اپنے سچ کو دیکھ لیتا ہے، وہ اسے بدلنے کی طاقت حاصل کر لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں پر اعتماد کی شروعات ہوتی ہے، یہیں سے انسان ترقی شروع کرتا ہے۔یہی سچائی اسے دوسروں سے الگ بناتی ہے۔

خود کو بہتر بنانے کے چند عملی قدم

اگر آپ واقعی مضبوط اعتماد چاہتے ہیں، تو ان چند باتوں پر عمل کریں، ایک ڈائری یا نوٹ بک میں وہ سب چیزیں لکھیں جن میں آپ کمزور ہیں۔ خود اعتمادی کے ساتھ حقیقت لکھیں۔ اگر بولنے میں دقت ہے، روز 5 منٹ بولنے کی مشق کریں۔ اگر فیصلہ سازی کمزور ہےتو روزمرہ کے کم سے کم ایک یا دو فیصلے خود لیں۔خود کا دوسروں سے مقابلہ  نہ کریں یہ  انسان کو کمزور کرتا ہے۔ آپ کا مقابلہ صرف اپنے آپ سے ہے۔ خود پر جتنی ہی محبت اور سکون سے توجہ دیں گے، اتنی ہی تیزی سے بدلیں گےہر ناکامی سے کچھ نہ کچھ سیکھیں،ناکامی کمزوری نہیں، تجربہ ہوتا ہےاور جس نے سیکھ لیا وہ جیت گیا۔

اصل طاقت کہاں چھپی ہے؟

طاقت اس لمحے پیدا نہیں ہوتی  جب آپ سب کے سامنے مضبوط بنتے ہیں۔طاقت اس پل جنم لیتی ہے جب آپ اپنے آپ سے سچ بولتے ہیں۔جب آپ اپنی کمزوریوں کو قبول کرتے ہیں اور انہیں بہتر بنانے کی ہمت دکھاتے ہیں۔یہی وہ اعتماد ہے جو نہ ٹوٹتا ہے، نہ ختم ہوتا ہے، نہ حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ اندر کی آگ ہے، باہر کی نہیں۔

تحریر: جاوید اختر کانٹینٹ کریئٹر

اوپر تک سکرول کریں۔