اسلام آباد / ابوظہبی:پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں اماراتی قومی سلامتی کے مشیر اور نائب حکمران شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور معاشی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا ہے، جبکہ خطے میں ممکنہ کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کا گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت کے لیے جاری سرمایہ کاری اور مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے اس امر پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی اپنی سلامتی سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری موجود ہے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان تمام شعبوں میں اس شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا تاکہ دونوں برادر ممالک کے عوام کے مفادات کا تحفظ ہو اور خطے میں امن و خوشحالی کو فروغ ملے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔ حالیہ برسوں میں معاشی دباؤ کے دوران متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو اہم مالی معاونت فراہم کی۔
متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جو وہاں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ امارات سے آنے والی ترسیلات زر پاکستان کے لیے زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور ملکی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
گزشتہ ماہ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کیا تھا، جہاں اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون پر گفتگو کی گئی تھی۔




