کمزور اور عام استعمال ہونے والے پاس ورڈز کی فہرست اور سائبر سیکیورٹی کا تصور
دنیا بھر میں سائبر کرائم تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے صارفین آج بھی ایسے پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں جن کا اندازہ ہیکرز چند سیکنڈ میں لگا لیتے ہیں۔ مسلسل آگاہی، وارننگز اور متعدد سیکیورٹی اپڈیٹس کے باوجود لوگ آسان اور کمزور پاس ورڈز پر انحصار کرتے ہیں، جس کا نتیجہ لاکھوں اکاؤنٹس کی ہیکنگ اور ڈیٹا چوری کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر ہیک ہونے والے تقریباً 10 کروڑ پاس ورڈز کے تجزیے سے یہ انکشاف ہوا کہ صارفین کی بڑی تعداد اب بھی وہی پاس ورڈ استعمال کر رہی ہے جو کئی برسوں سے خطرناک قرار دیے جا رہے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی Pack AI کے مطابق، صرف ایک ہی پاس ورڈ 123456 چھاسٹھ لاکھ سے زائد ہیک شدہ اکاؤنٹس میں استعمال ہوتا پایا گیا، جو اسے دنیا کا سب سے عام اور بدترین پاس ورڈ بناتا ہے۔
دنیا کے 10 سب سے زیادہ استعمال ہونے والے خطرناک پاس ورڈ، رپورٹ کے مطابق یہ وہ پاس ورڈ ہیں جنہیں ہیکرز محض ایک لمحے میں توڑ لیتے ہیں:
123456
123456789
111111
password
qwerty
abc123
1234567
password1
12345678
123123
یہ تمام پاس ورڈز نہ صرف عام ہیں بلکہ کسی بھی جدید ہیکنگ ٹول کے سامنے بالکل بے بس ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے اکثر پاس ورڈز کی توڑنے کی مدت ایک سیکنڈ سے بھی کم ہوتی ہے۔
کمزور پاس ورڈز کا نقصان
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور پاس ورڈ بنیادی طور پر ہیکرز کو آپ کی نجی معلومات، تصاویر، مالی ڈیٹا، ای میلز، سوشل میڈیا اور بینک اکاؤنٹس تک براہ راست رسائی فراہم کرتے ہیں۔
اکثر افراد سمجھتے ہیں کہ بائیومیٹرک، فنگرپرنٹ یا فیس لاک کے باعث پاس ورڈ اہم نہیں رہا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب بھی آپ کا ڈیوائس ریکوری موڈ میں جاتا ہے یا اکاؤنٹ ویب کے ذریعے لاگ اِن کیا جاتا ہے، تو بالآخر پاس ورڈ ہی سیکیورٹی کی آخری لائن بنتا ہے۔
کیوں لوگ کمزور پاس ورڈ بناتے ہیں؟
ماہرین اس کی چند عام وجوہات بتاتے ہیں یاد رکھنے میں آسانی ،ایک ہی پاس ورڈ ہر جگہ استعمال کرنا، سیکیورٹی کو غیر ضروری سمجھنا ،جلد بازی میں پیٹرن یا آسان نمبرز رکھ دینا، آن لائن خطرات سے ناواقف ہونا ،یہ عادات صارف کو خود ہی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔
ماہرین کا مشورہ: مضبوط پاس ورڈ کیسے بنائیں؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین خصوصاً درج ذیل اصولوں پر زور دیتے ہیں کہ پاس ورڈ کم از کم 12 حروف پر مشتمل ہو، بڑے اور چھوٹے حروف شامل ہوں، نمبر اور علامتیں بھی شامل کی جائیں (@, #, $ وغیرہ)، نام، تاریخ پیدائش، فون نمبر یا ذاتی معلومات استعمال نہ کریں، ہر اکاؤنٹ کے لیے علیحدہ پاس ورڈ بنائیں، وقت کے ساتھ پاس ورڈ تبدیل کرتے رہیں، پاس ورڈ مینیجر کا استعمال بہتر حل ہے
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ فنگر پرنٹ اور فیس لاک جیسی ٹیکنالوجیز اب عام ہو رہی ہیں، لیکن پالیسی اور بین الاقوامی سیکیورٹی معیارات میں پاس ورڈ اب بھی بنیادی عنصر ہے۔ اس لیے محفوظ پاس ورڈ بنانا مستقبل میں بھی ضروری رہے گا۔
دنیا کے لاکھوں صارفین ہر سال کمزور پاس ورڈ زدہ ہیکنگ واقعات کا شکار ہوتے ہیں، اور زیادہ تر نقصان صرف اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ آسانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، چند بنیادی احتیاطیں اپنا کر اس خطرے سے با آسانی بچا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کے کسی اکاؤنٹ میں مذکورہ عام پاس ورڈ موجود ہے، تو اسے فوری طور پر تبدیل کر لینا ہی بہترین قدم ہوگا۔





