اسلام آباد(ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی بینچ مارکس میں اضافہ جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 350 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ براہِ راست ملکی ایندھن کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر اور حکومتی مالیاتی منصوبہ بندی پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
ملکی معیشت پہلے ہی مہنگائی، کرنسی دباؤ اور بڑھتی ہوئی لاگتِ زندگی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسی صورتحال میں ایندھن کی نئی قیمتوں میں اضافہ گھریلو صارفین اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کرایوں، بجلی کی پیداواری لاگت، خوراک کی ترسیل اور صنعتی پیداوار سبھی کا دارومدار بڑی حد تک ایندھن کی قیمتوں پر ہوتا ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق تیل پیدا کرنے والے خطوں میں طویل جغرافیائی سیاسی کشیدگی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ایندھن پر سبسڈی، ٹیکس پالیسی اور زرِ مبادلہ کے استحکام جیسے معاملات میں محتاط فیصلے کرے تاکہ صارفین پر پڑنے والے ممکنہ بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
عالمی توانائی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے اور پالیسی سازوں کو مالیاتی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آنے والے ہفتے اس حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔




