اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان نے 2000 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، جسے ملکی دفاعی صلاحیت میں اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

 

سرکاری اعلامیے کے مطابق اس تجربے سے میزائل ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت اور قومی سلامتی کے لیے دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت اس نظام کو درمیانی تا متوسط فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک نظاموں کی صف میں شامل کرتی ہے، جس سے پاکستان کی اسٹریٹجک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔

 

پاکستان کا میزائل پروگرام برسوں سے دفاعی اداروں کی نگرانی میں ترقی کر رہا ہے، جن میں Strategic Plans Division کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ مسلح افواج کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور دفاعی ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے تجربات معمول کی جانچ کا حصہ ہوتے ہیں، جن کا مقصد نظام کی آپریشنل تیاری، درستگی اور قابلِ اعتماد کارکردگی کی توثیق کرنا ہوتا ہے۔ خطے کی پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اسٹریٹجک دفاعی توازن کو قومی دفاعی پالیسی کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔

 

حکام نے اس امر پر زور دیا کہ یہ تجربہ پاکستان کی "قابلِ اعتماد کم از کم دفاعی توازن” کی پالیسی کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد خطے میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے ملکی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔