اسلام آباد:پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اچانک شدت آ گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے سرحد پار مبینہ کارروائیوں کے جواب میں کابل، قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خطے کی سیکیورٹی پر اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے سرحد پار مبینہ بلا اشتعال کارروائیوں کے جواب میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی آپریشن کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے طیاروں نے کابل، قندھار اور پکتیا میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں مخالف فورسز کے بعض کمانڈ و کنٹرول مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کابل میں دو مبینہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز جبکہ قندھار میں ایک کور اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو ہدف بنایا گیا۔ بعض میڈیا رپورٹس میں پکتیا میں 205 کور ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں سرحد پار سے کی جانے والی مبینہ جارحیت کے جواب میں کی گئیں۔ ان کے مطابق فضائی اور زمینی دونوں سطحوں پر ردعمل دیا جا رہا ہے اور سرحد پار لاجسٹک بیسز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق افواجِ پاکستان کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے کے خلاف مکمل طور پر تیار ہیں اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی دفاع پر کسی قسم کی مصلحت اختیار نہیں کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ خطے کے امن و استحکام پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی معاملات پر تناؤ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔تاحال افغان حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔