کراچی (ویب ڈیسک )این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے انجینئرز نے پاکستان کی پہلی AI سے چلنے والی بغیر ڈرائیور کار کا تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ تجربہ یونیورسٹی کی حدود میں کیا گیا جہاں خود مختار گاڑی نے نہایت روانی سے ڈرائیونگ کی، جسے دیکھ کر طلبہ اور اساتذہ حیران رہ گئے۔


یہ منصوبہ تقریباً ایک سال قبل این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن سائنسز کے قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت میں شروع ہوا تھا۔ چین سے درآمد شدہ الیکٹرک کار کو جدید AI، روبوٹکس، میپنگ سسٹمز، اسمارٹ سینسرز اور وژن الگورتھم کی مدد سے مکمل خود مختار گاڑی میں تبدیل کیا گیا ہے۔

نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر اور منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر محمد خرم کے مطابق یہ پروجیکٹ مسلسل تحقیق کے بعد اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم اس وقت مختلف روڈ ٹرائلز کر رہی ہے۔


ان کے مطابق رڈار ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر ویژن کے ذریعے تیار کردہ اسٹیئرنگ کنٹرول سسٹم کے ساتھ ساتھ لین کی شناخت، رفتار کی حد کا پتہ لگانے اور ٹریفک سگنل کی پہچان جیسے فیچرز بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

گاڑی کی رفتار فی الحال 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود ہے۔ اس کے باوجود گاڑی موڑ کا فیصلہ کرنے، ٹریفک کو پرکھنے اور راستہ منتخب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹیم کے رکن انضمام خان نے بتایا کہ یہ گاڑی پاکستان کے بے ترتیب شہری ماحول میں چلنے کے قابل چند گاڑیوں میں سے ایک ہے۔ ہائی ریزولوشن سینسرز گڑھوں، ناہموار راستوں اور مقامی انفراسٹرکچر کو پڑھتے ہوئے گاڑی کو محفوظ رکھتے ہیں۔


یہ پروجیکٹ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کے دور میں شروع ہوا تھا، جبکہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد کی سرپرستی میں این ای ڈی انجینئرز نے اسے کامیاب تجربے تک پہنچایا ہے۔

بغیر ڈرائیور گاڑی کا یہ کامیاب ٹیسٹ پاکستان میں خود مختار ٹیکنالوجی کی جانب ایک تاریخی قدم سمجھا جا رہا ہے اور مقامی انجینئرز کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت بھی ہے۔

حلقہ کے عوام نے ملک منصور عثمان اعوان اور ملک امیر حیدر سنگھا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ترقی کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔تفصیل کے لیے خبر پڑھیں👇

اس مواد کے مطابق ایک معیاری  خبر میری اردو نیوز ’’خبرپاکستان‘‘ویب سائٹ کے لیے ایس ای فرینڈلی ، فری کاپی رائٹس، سالگ، ٹائٹل، میٹا ڈسکرپشن، الٹ ٹیکسٹ اورفوکس کی ورڈ  وغیرہ بنا دیں

اوپر تک سکرول کریں۔